نئی دہلی، 24/جولائی(ایس او نیوز/ایجنسی) میڈیا رپورٹ کے دعویٰ کے مطابق وزارت دفاع کے حکام نے کہا ہے کہ ہندوستانی فوج، فضائیہ اور بحریہ میں 11,000 سے زیادہ افسران کی کمی ہے جن میں سے نصف سے زیادہ فوج میں ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق میجر اور کیپٹن رینک کے افسران کی کمی ہے۔ ہندوستانی فضائیہ میں اسکواڈرن لیڈر اور فلائٹ لیفٹیننٹ جیسے اہم افسران کی بھی کمی ہے۔اسی طرح ہندوستانی بحریہ میں لیفٹیننٹ کمانڈر کے عہدے کے افسران سمیت افسران کی کمی ہے۔
ان خالی آسامیوں کے بارے میں وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وبا کے دوران افسران کی بھرتی کم تھی۔وزارت دفاع کے مطابق، کووڈ-19 کی مدت میں افسران کی کم بھرتی کی وجہ سے، ہندوستانی فضائیہ اور بحریہ میں بھی 11,266 میجر اور کیپٹن اور اس کے مساوی رینک اور دیگر رینک کے افسران کی کمی ہے۔ وزارت دفاع نے پارلیمنٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ ہندوستانی فوج میں 6800 سے زائد افسران کے عہدے خالی ہیں۔
فوج میں میجر سطح کے 2,094 اور کیپٹن سطح کے 4,734 افسران کی کمی ہے۔دوسری جانب بھارتی فضائیہ میں 881 سکواڈرن لیڈرز اور 940 فلائٹ لیفٹیننٹ کی کمی ہے۔ بحریہ میں لیفٹیننٹ کمانڈر اور اس سے نیچے کے رینک کے 2,617 افسران کی کمی ہے۔ وزیر مملکت برائے دفاع اجے بھٹ کے مطابق وبائی مرض کے دوران فضائیہ، بحریہ اور فوج میں افسروں کی تقرری پر اثر پڑا۔اس کے علاوہ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ‘شارٹ سروس کمیشن’ (ایس ایس سی) جیسے معاون کیڈر میں کم بھرتی بھی افسروں کی اس کمی کی ذمہ دار ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ دفاعی افواج میں افسران کی بھرتی کئی ذرائع سے کی جاتی ہے۔ان میں سے ایک ایس ایس سی کے ذریعے ہے، جہاں کیڈٹس 11 ماہ کی تربیت کے بعد پاس آؤٹ ہو کر افسر بن جاتے ہیں اور 10 سے 14 سال کی مقررہ مدت کے لیے دفاعی افواج میں خدمات انجام دیتے ہیں۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ان پوسٹوں پر افسران کی دوبارہ تعیناتی جیسی کسی متبادل حکمت عملی پر غور نہیں کر رہی ہے، بلکہ فوج میں شارٹ سروس کے داخلے کو مزید پرکشش بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاہم، دفاعی فورسز کے عہدوں پر خالی آسامیوں کے درمیان ایک مثبت بات یہ ہے کہ وزارت دفاع نے سال 2022 سے نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) میں خواتین امیدواروں کی بھرتی شروع کی ہے۔ سال 2022 سے اب تک این ڈی اے کے ذریعے 57 خواتین کیڈٹس کو بھرتی کیا جا چکا ہے۔